Surah al-Anfāl

Irfan Ul Quran
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞ
وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَی الطَّآىِٕفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ۝

7. اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ نے تم سے (کفارِ مکہ کے) دو گروہوں میں سے ایک پر غلبہ و فتح کا وعدہ فرمایا تھا کہ وہ یقیناً تمہارے لئے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ غیر مسلح (کمزور گروہ) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے حق کو حق ثابت فرما دے اور (دشمنوں کے بڑے مسلح لشکر پر مسلمانوں کی فتح یابی کی صورت میں) کافروں کی (قوت اور شان و شوکت کے) جڑ کاٹ دےo

7. And (recall the time) when Allah promised you that dominance and victory over one of the two groups (of the disbelievers of Mecca) would certainly be yours. And you desired that (the group) without weapons (the weaker one) should fall into your hands, but Allah willed to establish the truth by His Words and cut off the roots of the disbelievers (i.e., their might and splendour through the Muslims’ victory over the enemy’s bigger and well-equipped troops),

(al-Anfāl, 8 : 7)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡ
اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَی الْمَلٰٓىِٕكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ۝

12. (اے حبیبِ مکرّم! اپنے اعزاز کا وہ منظر بھی یاد کیجیے) جب آپ کے رب نے (غزوۂ بدر کے موقع پر) فرشتوں کو پیغام بھیجا کہ (اَصحابِ رسول کی مدد کے لیے) میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں، سو تم (بشارت و نصرت کے ذریعے) ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی (جنگ جُو) کافروں کے دلوں میں (لشکر محمدی کا) رعب و ہیبت ڈالے دیتا ہوں، سو تم (غزوۂ بدر کے دوران جارح کافروں کی) گردنوں کے اوپر سے ضرب لگانا اور (ان کی سازشوں اور جنگی حربوں کے جواب میں) ان کے ایک ایک جوڑ کو توڑ دیناo

12. (O Esteemed Beloved! Also recall the majestic sight of your glory) when (on the occasion of the battle of Badr) your Lord revealed to the angels the message: ‘I am (also) with you (to support the Companions of the Messenger). So, keep the believers firm-footed and steadfast (by good news and support); I will cast awesomeness (of Muhammad’s forces [blessings and peace be upon him]) into the hearts of the (warring) disbelievers right now. So, strike at the nape of (the aggressing disbelievers’) necks and crush all their tendons and joints (during the battle of Badr, in response to their manoeuvres and war strategy against you).’

(al-Anfāl, 8 : 12)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ۝

24. اے ایمان والو! جب (بھی) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں کسی کام کے لئے بلائیں جو تمہیں (جاودانی) زندگی عطا کرتا ہے تو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، دونوں) کی طرف فرمانبرداری کے ساتھ جواب دیتے ہوئے (فوراً) حاضر ہو جایا کرو؛ اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے قلب کے درمیان (شانِ قربتِ خاصہ کے ساتھ) حائل ہوتا ہے اور یہ کہ تم سب (بالآخر) اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گےo

24. O Believers! Present yourselves (immediately) responding to Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) with submissiveness and obedience whenever He calls you for some assignment that brings you (eternal) life. And bear in mind that Allah intervenes between man and his heart (with a Glory of exclusive nearness), and that all of you will (ultimately) be gathered towards Him.

(al-Anfāl, 8 : 24)
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤ
وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝

26. اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم (مکی زندگی میں عدداً) تھوڑے (یعنی اَقلیّت میں) تھے ملک میں دبے ہوئے تھے (یعنی معاشی طور پر کمزور اور استحصال زدہ تھے) تم اس بات سے (بھی) خوفزدہ رہتے تھے کہ (طاقتور) لوگ تمہیں اچک لیں گے (یعنی سماجی طور پر بھی تمہیں آزادی اور تحفظ حاصل نہ تھا) پس (ہجرتِ مدینہ کے بعد) اس (اللہ) نے تمہیں (آزاد اور محفوظ) ٹھکانا عطا فرما دیا اور (اسلامی حکومت و اقتدار کی صورت میں) تمہیں اپنی مدد سے قوت بخش دی اور (مواخات، اَموالِ غنیمت اور آزاد معیشت کے ذریعے) تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا فرما دی تاکہ تم اللہ کی بھرپور بندگی کے ذریعے اس کا) شکر بجا لا سکوo

26. And (call to mind the time) when (numerically) you were small (i.e., in the minority, in the Meccan period,) and oppressed in the country (i.e., economically unstable and victims of exploitation). You were (also) afraid that (the powerful) people would snatch you away (i.e., socially too you were neither free nor secure). So, (after migration to Medina,) He (Allah) provided for you a free and secure abode, and strengthened you with His help (through Islamic rule and power) and supplied you with sustenance of pure and wholesome things (through brotherhood, spoils of war and a free economy) so that you may give thanks to Allah (by means of absolute submission to Allah’s commands).

(al-Anfāl, 8 : 26)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎ
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰی جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ۝

36. بیشک کافر لوگ اپنا مال و دولت (اس لئے) خرچ کرتے ہیں کہ (اس کے اثر سے) وہ (لوگوں کو) اللہ (کے دین) کی راہ سے روکیں، سو ابھی وہ اسے خرچ کرتے رہیں گے پھر (یہ خرچ کرنا) ان کے حق میں پچھتاوا (یعنی حسرت و ندامت) بن جائے گا پھر وہ (گرفتِ الٰہی کے ذریعے) مغلوب کر دیئے جائیں گے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گےo

36. Undoubtedly, the disbelievers spend their wealth (in order to influence and) prevent people from the path of Allah’s Din (Religion). So, presently, they will continue spending it, but later (this spending) will become for them a source of regret (i.e., repentance and despondency). They will then be overpowered (by Allah’s seizure), and those who have adopted disbelief will be driven towards Hell,

(al-Anfāl, 8 : 36)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴ
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۝

41. اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) قرابت داروں کے لئے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے۔ اگر تم اللہ پر اور اس (وحی) پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب میدانِ بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم مقابل ہوئے تھے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہےo

41. And bear in mind that whatever spoils of war you seize, a fifth of it is for Allah and the Messenger (blessings and peace be upon him) and (the Messenger’s) kindred and orphans and the needy and the wayfarers, if you believe in Allah, and in that (Revelation) which We sent down on Our (exalted) Servant on the Day of Decision (i.e., discrimination between the truth and falsehood), the day (when) the two armies (of the believers and the disbelievers) encountered (in the battlefield of Badr). And Allah has absolute power over everything.

(al-Anfāl, 8 : 41)
Play Copy
ﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛ
اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰی وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ۝

42. جب تم (مدینہ کی جانب) وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ (کفّار دوسری جانب) دور والے کنارے پر تھے اور (تجارتی) قافلہ تم سے نیچے تھا، اور اگر تم آپس میں (جنگ کے لئے) کوئی وعدہ کر لیتے تو ضرور (اپنے) وعدہ سے مختلف (وقتوں میں) پہنچتے لیکن (اللہ نے تمہیں بغیر وعدہ ایک ہی وقت پر جمع فرما دیا) یہ اس لئے (ہوا) کہ اللہ اس کام کو پورا فرما دے جو ہو کر رہنے والا تھا تاکہ جس شخص کو مرنا ہے وہ حجت (تمام ہونے) سے مرے اور جسے جینا ہے وہ حجت (تمام ہونے) سے جئے (یعنی ہر کسی کے سامنے اسلام اور رسول برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت پر حجت قائم ہو جائے)، اور بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo

42. (Remember) when you were on the nearer bank of the valley (the Medina side) and they (the disbelievers) were on the farther bank (the other side) and (the mercantile) caravan was below you; and had you made some mutual appointment (to fight), you would certainly have reached there (at the timings) different from (your) appointment. (But Allah brought you face to face, at the same time, without any appointment.) This took place in order that Allah might lead that matter to completion, which was destined to happen, so that he who had to die might die (with a manifest) evidence to that effect, and he who had to survive might continue to live (with a manifest) evidence to that effect (i.e., the evidence be established for all on the veracity of Islam and the Holy Messenger [blessings and peace be upon him]). Allah is surely All-Hearing, All-Knowing.

(al-Anfāl, 8 : 42)
Play Copy
Play Copy
ﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨ
وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ؕ وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠۝

44. اور (وہ منظر بھی انہیں یاد دلائیے) جب اس نے ان کافروں (کی فوج) کو باہم مقابلہ کے وقت (بھی محض) تمہاری آنکھوں میں تمہیں تھوڑا کر کے دکھایا اور تمہیں ان کی آنکھوں میں تھوڑا دکھلایا (تاکہ دونوں لشکر لڑائی میں مستعد رہیں) یہ اس لئے کہ اللہ اس (بھر پور جنگ کے نتیجے میں کفار کی شکستِ فاش کے) امر کو پورا کر دے جو (عند اللہ) مقرر ہو چکا تھا، اور (بالآخر) اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیںo

44. And (also remind them of the sight) when He, at the time of encounter (as well), made (the troops of) the disbelievers appear small (just) in your eyes and made you appear small in their eyes (so that both the armies might remain in a heightened state of alert) in order that Allah leads to completion (the total defeat of disbelievers resulting from the full-fledged war) preordained (by Allah). And (eventually) all matters are returned to Allah alone.

(al-Anfāl, 8 : 44)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚ
وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰی عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠۝

48. اور جب شیطان نے ان (کافروں) کے لئے ان کے اَعمال خوش نما کر دکھائے اور اس نے (ان سے) کہا: آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں (ہو سکتا) اور بیشک میں تمہیں پناہ دینے والا (مددگار) ہوں۔ پھر جب دونوں فوجوں نے ایک دوسرے کو (مقابل) دیکھ لیا تو وہ الٹے پاؤں بھاگ گیا اور کہنے لگا: بیشک میں تم سے بے زار ہوں، یقیناً میں وہ (کچھ) دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں، اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہےo

48. And (recall) when Satan made the actions of these (disbelievers) appear attractive to them, and he said (to them): ‘None of the people (can) overpower you today and I am certainly your protector (helper).’ But when both the armies stood (face to face) against each other, he turned on his heels and said: ‘I am indeed averse to you. Certainly, I see what you do not see. Surely, I fear Allah, and Allah is Severe in punishing.’

(al-Anfāl, 8 : 48)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺ
وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ۝

60. اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لیے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑوں کی (کھیپ بھی)، اس (دفاعی تیاری) سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو (اپنے اوپر حملہ آور ہونے سے) ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی جن (کی چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور تم جو کچھ (بھی اپنے دفاع کی خاطر) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے نا انصافی نہ کی جائے گیo

60. And, prepare against them whatever strength (of arms) you can, and warhorses, to frighten thereby the enemy of Allah, and your enemy, and others besides them (from attacking you), whom you do not know but Allah knows them. And whatever you spend (for your defence) in the way of Allah, will be repaid to you in full, and you will not be wronged.

(al-Anfāl, 8 : 60)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛ
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ۝

65. اے نبی (مکرّم!) آپ ایمان والوں کو (ظلم اور جبر و بربریت جاری رکھنے والوں کے خلاف) جہاد کی ترغیب دیں، اگر تم میں سے (جنگ میں) بیس (20) ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو (200 جنگ جُو کفار) پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے (ایک) سو (ثابت قدم) ہوں گے تو (جارِح) کافروں میں سے (ایک) ہزار پر غالب آئیں گے اِس وجہ سے کہ وہ (اُلوہی رازوں کی) سمجھ نہیں رکھتےo

65. O (Venerable) Messenger! Motivate the believers to fight (against those who are continuously committing injustice, oppression and barbarity). If there are twenty of you firm and steadfast (in the event of war), they will overpower two hundred (combating disbelievers), and if (one) hundred of you are (steadfast), they will overpower (one) thousand of the (invading) disbelievers because they do not understand (the divine secrets).

(al-Anfāl, 8 : 65)
Play Copy
ﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚ
اَلْـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۝

66. اب اللہ نے تم سے (اپنے حکم کا بوجھ) ہلکا کر دیا اسے معلوم ہے کہ تم میں (کسی قدر) کمزوری ہے سو (اب تخفیف کے بعد حکم یہ ہے کہ) اگر تم میں سے (ایک) سو (آدمی) ثابت قدم رہنے والے ہوں (تو) وہ دو سو (کفار) پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے (ایک) ہزار ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار (کافروں) پر غالب آئیں گے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (یہ مومنوں کے لئے ہدف ہے کہ میدانِ جہاد میں ان کے جذبۂ ایمانی کا اثر کم سے کم یہ ہونا چاہیئے)o

66. Allah has, at present, lightened the burden (of His commandment) on you. He knows that there is (some degree of) weakness in you. So (now after mitigation the command is) that if there are (one) hundred resolute and steadfast (men) from amongst you, they will overpower two hundred (combating disbelievers). And if there are (one) thousand of you, they will triumph over two thousand (disbelievers) by the command of Allah, and Allah is with those who remain steadfast. (This is the target fixed for the believers which should be the minimum possible effect of the vehemence of their faith in the battlefield.)

(al-Anfāl, 8 : 66)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪ
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُهَاجِرُوْا ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۝

72. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی وہی لوگ ایک دوسرے کے حقیقی دوست ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے (مگر) انہوں نے (اللہ کے لئے) گھر بار نہ چھوڑے تو تمہیں ان کی دوستی سے کوئی سروکار نہیں یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین (کے معاملات) میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر (ان کی) مدد کرنا واجب ہے مگر اس قوم کے مقابلہ میں (مدد نہ کرنا) کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح و امن کا) معاہدہ ہو، اور اللہ ان کاموں کو جو تم کر رہے ہو خوب دیکھنے والا ہےo

72. Indeed, those who have embraced faith and have emigrated (for the cause of Allah) and have fought in the way of Allah with their material as well as human resources, and those who have provided (the Emigrants) with shelter and helped (them), it is they who are the real friends of one another. And those who have believed (but) have not emigrated (for Allah), you do not owe anything to them for their friendship till they emigrate. And if they seek help from you in (matters of) Din (Religion), it will be your duty to help them, except against a people with whom you have a (peace) treaty. And Allah is Most Vigilant to all (the works) that you are doing.

(al-Anfāl, 8 : 72)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇ
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ مِنْكُمْ ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠۝

75. اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے راہِ حق میں (قربانی دیتے ہوئے) گھر بار چھوڑ دیئے اور (عدل و انصاف اور امن و سلامتی کے نوزائدہ نظام کو متزلزل کرنے والے حملہ آور اور جارِح دشمنوں کے خلاف) تمہارے ساتھ مل کر (دفاعی) جہاد کیا تو وہ لوگ (بھی) تم ہی میں سے ہیں، اور اللہ کی کتاب میں رشتے دار (صلہ رحمی اور وراثت کے لحاظ سے) ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo

75. And those who believed afterwards, and left their homes (sacrificing) in the cause of truth, and joined you in fighting (in defence against the aggressing enemies who initiated and imposed war to jolt off the newly born system of social justice, peace and security), they are (also) from amongst you. And (as for inheritance and affinity with blood relations) the relatives have a higher claim on one another in the Book of Allah. Surely, Allah knows best everything.

(al-Anfāl, 8 : 75)