Play Copy

60. اور (یاد کیجئے) جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ بیشک آپ کے رب نے (سب) لوگوں کو (اپنے علم و قدرت کے) احاطہ میں لے رکھا ہے، اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کے لئے صرف ایک آزمائش بنایا ہے (ایمان والے مان گئے اور ظاہر بین الجھ گئے) اور اس درخت (شجرۃ الزقوم) کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ (ڈرانا بھی) ان میں کوئی اضافہ نہیں کرتا سوائے اور بڑی سرکشی کےo

60. And (recall) when We said to you: ‘Indeed, your Lord has encompassed (all) mankind (within His knowledge and might). And We have made the vision (on the Night of Ascension) that We showed you but a trial for the people; (the believers believed in it, whilst those having superficial vision were confused;) and also that tree (of Zaqqum) which has been cursed in the Qur’an. And We warn them, but this (warning too) does not add anything to them except greater disobedience and rebelliousness.’

(al-Isrā’, 17 : 60)