Surah al-Munāfiqūn

Irfan Ul Quran
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻ
وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ؗ اَنّٰی یُؤْفَكُوْنَ ۴۝

4. (اے بندے!) جب تو انہیں دیکھے تو اُن کے جسم (اور قد و قامت) تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر وہ باتیں کریں تو اُن کی گفتگو تُو غور سے سنے (یعنی تجھے معقول دکھائی دیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ) وہ لوگ گویا دیوار کے سہارے کھڑی کی ہوئی لکڑیاں ہیں، وہ ہر اونچی آواز کو اپنے اوپر (بَلا اور آفت) سمجھتے ہیں، وہی (منافق تمہارے) دشمن ہیں سو اُن سے بچتے رہو، اللہ انہیں غارت کرے وہ کہاں بہکے پھرتے ہیںo

4. (O servant!) When you see them, their bodies (and height and structure) seem attractive to you, and if they speak, you lend ear to what they say (i.e., they will look sensible to you, but the fact is that) they are nothing but wooden planks propped up against a supporting wall. They take every loud voice (as some suffering and misery) befallen them. It is these (hypocrites) who are (your) enemies. So be on guard against them. May Allah ruin them; where are they wandering distracted!

(al-Munāfiqūn, 63 : 4)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟ
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ ۵۝

5. اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لئے مغفرت طلب فرمائیں تو یہ (منافق گستاخی سے) اپنے سر جھٹک کر پھیر لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ تکبر کرتے ہوئے (آپ کی خدمت میں آنے سے) گریز کرتے ہیں٭o

٭ یہ آیت عبد اللہ بن اُبیّ (رئیس المنافقین) کے بارے میں نازل ہوئی، جب اسے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں بخشش طلبی کے لئے حاضر ہونے کا کہا گیا تو سر جھٹک کر کہنے لگا: میں نہیں جاتا، میں ایمان بھی لا چکا ہوں، ان کے کہنے پر زکوٰۃ بھی دے دی ہے۔ اب کیا باقی رہ گیا ہے فقط یہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ بھی کروں؟ (الطبری، الکشاف، نسفی، بغوی، خازن)۔

5. And when it is said to them: ‘Come so that Allah’s Messenger (blessings and peace be upon him) may seek forgiveness for you,’ these (hypocrites) jerk their heads aside (insolently) and you see them keeping away (from your presence) in arrogance.*

* This verse was sent down concerning ‘Abd Allah b. Ubayy (the chief of the hypocrites). When asked to appear before the presence of the Holy Prophet (blessings and peace be upon him) for seeking forgiveness, he said twisting his head: ‘I will not go. I have believed and have paid Zakat (the Alms-due) on his advice. Now what is left except that I should now prostrate myself before Muhammad?’

(al-Munāfiqūn, 63 : 5)
Play Copy
Play Copy
ﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉ
هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ ۷۝

7. (اے حبیبِ مکرّم!) یہی وہ لوگ ہیں جو (آپ سے بُغض و عِناد کی بنا پر) یہ (بھی) کہتے ہیں کہ جو (درویش اور فقراء) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں رہتے ہیں اُن پر خرچ مت کرو (یعنی ان کی مالی اعانت نہ کرو) یہاں تک کہ وہ (سب انہیں چھوڑ کر) بھاگ جائیں (منتشر ہوجائیں)، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے سارے خزانے اللہ ہی کے ہیں لیکن منافقین نہیں سمجھتےo

7. (O Esteemed Beloved!) They are the people who say this as well (out of malice and enmity against you): ‘Do not spend on those (destitute devotees of Allah) who remain in the presence of the Messenger of Allah (i.e., do not provide them financial help) until they (all may desert him and) flee away (and disperse). In truth, to Allah belong all the treasures of the heavens and the earth, but the hypocrites do not understand.

(al-Munāfiqūn, 63 : 7)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy