Play Copy

11. بیشک جن لوگوں نے (عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا پر) بہتان لگایا تھا (وہ بھی) تم ہی میں سے ایک جماعت تھی، تم اس (بہتان کے واقعہ) کو اپنے حق میں برا مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر (ہوگیا) ہے٭ ان میں سے ہر ایک کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور ان میں سے جس نے اس (بہتان) میں سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لئے زبردست عذاب ہےo

٭ (کیونکہ تمہیں اسی حوالے سے احکامِ شریعت مل گئے اور عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا گواہ خود اللہ بن گیا جس سے تمہیں ان کی شان کا پتہ چل گیا۔)

11. Surely those who fabricated the accusation (against ‘A’isha the truthful, the pure, the chaste—may Allah be well pleased with her) were (also) a party from amongst you. Do not consider this (slander account) as a bad thing for you. It has rather (turned out to be) good for you.* Every one of them has a share in the sin as much as he has earned it, but whoever has had a major share in this (false accusation), for him is a terrible torment.

* In that you have received Shariah commands regarding this, and also Allah has Himself borne witness to the chastity of ‘A’isha the truthful (may Allah be well pleased with her) which has revealed to you her majesty and dignity.

(an-Nūr, 24 : 11)