Surah ar-Ra‘d

Irfan Ul Quran
Play Copy
Play Copy
ﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁ
اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ ۲۝

2. اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے (خلا میں) بلند فرمایا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو پھر (پوری کائنات پر محیط اپنے) تخت اقتدار پر (اپنی شان کے لائق) متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو نظام کا پابند بنا دیا، ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لئے (اپنے اپنے مدار میں) چلتا ہے۔ وہی (ساری کائنات کے) پورے نظام کی تدبیر فرماتا ہے، (سب) نشانیوں (یا قوانینِ فطرت) کو تفصیلاً واضح فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کر لوo

2. Allah is He Who has raised the heavens aloft (in space) without pillars (as) you see; then He established His authority on the Throne (encompassing the entire universe befitting His glory) and fettered the sun and the moon to a system, each moving (in its respective orbit to complete its rotation) during its appointed term. He alone devises strategies for the total system (of the entire universe), and vividly manifests (all the) signs (or the laws of nature) so that you may develop firm faith in appearing before your Lord.

(ar-Ra‘d, 13 : 2)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧ
لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ ۱۱۝

11. (ہر) انسان کے لئے یکے بعد دیگرے آنے والے (فرشتے) ہیں جو اس کے آگے اور اس کے پیچھے اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ (اس کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے) عذاب کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اور نہ ہی ان کے لئے اللہ کے مقابلہ میں کوئی مددگار ہوتا ہےo

11. For (every) human being there are (angels) coming in succession who, before him and behind him, guard him by the command of Allah. Verily, Allah does not change the state of a people until they bring about a change in themselves. And when Allah intends to torment a people (due to their own evil works), then none can avert it. Nor is there any helper for them apart from Allah.

(ar-Ra‘d, 13 : 11)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮ
لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَی الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ۴۱۝

14. اسی کے لئے حق (یعنی توحید) کی دعوت ہے، اور وہ (کافر) لوگ جو اس کے سوا (معبودانِ باطلہ یعنی بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، وہ انہیں کسی چیز کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ان کی مثال تو صرف اس شخص جیسی ہے جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے (بیٹھا) ہو کہ پانی (خود) اس کے منہ تک پہنچ جائے اور (یوں تو) وہ (پانی) اس تک پہنچنے والا نہیں، اور (اسی طرح) کافروں کا (بتوں کی عبادت اور ان سے) دعا کرنا گمراہی میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیںo

14. Calling towards the truth (i.e., the Oneness of Allah) is for Him alone. And those (false gods—idols) they (disbelievers) worship besides Him cannot give them any answer at all. Their example is like the one who (sits) stretching both his palms towards water so that it may reach his mouth (itself), but it (the water) reaches not (like this). And (in like manner) the praying of disbelievers (to idols and their idol-worship) is but a distraction.

(ar-Ra‘d, 13 : 14)
Play Copy
Play Copy
ﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭ
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ قُلِ اللّٰهُ ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَ الْبَصِیْرُ ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۶۱۝

16. (ان کافروں کے سامنے) فرمایئے کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ آپ (خود ہی) فرما دیجئے: اللہ ہے۔ (پھر) آپ (ان سے دریافت) فرمایئے: کیا تم نے اس کے سوا (ان بتوں) کو کارساز بنا لیا ہے جو نہ اپنی ذاتوں کے لئے کسی نفع کے مالک ہیں اور نہ کسی نقصان کے۔ آپ فرما دیجئے: کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں یا کیا تاریکیاں اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں۔ کیا انہوں نے اللہ کے لئے ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اللہ کی مخلوق کی طرح (کچھ مخلوق) خود (بھی) پیدا کی ہو، سو (ان بتوں کی پیدا کردہ) اس مخلوق سے ان کو تشابُہ (یعنی مغالطہ) ہو گیا ہو، فرما دیجئے: اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ایک ہے، وہ سب پر غالب ہےo

16. Say (to these disbelievers): ‘Who is the Sustainer of the heavens and the earth?’ Say (yourself): ‘Allah.’ (Again) ask (them): ‘Have you taken besides Allah (these idols) as your protectors who cannot control any profit or loss even for themselves?’ Say: ‘Can the blind and the seeing be equal? Or can darkness and light be the same? Have they associated such partners with Allah that have also created (some creation) themselves similar to that of Allah, so this creation (created by these idols) has caused them doubt of resemblance (i.e., error of judgment that they too could create as Allah does)?’ Say: ‘Allah alone is the Creator of everything. And He is One. He is Dominant over all.’

(ar-Ra‘d, 13 : 16)
Play Copy
ﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾ
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ ۷۱۝

17. اس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا تو وادیاں اپنی (اپنی) گنجائش کے مطابق بہہ نکلیں، پھر سیلاب کی رَو نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا، اور جن چیزوں کو آگ میں تپاتے ہیں، زیور یا دوسرا سامان بنانے کے لئے اس پر بھی ویسا ہی جھاگ اٹھتا ہے، اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثالیں بیان فرماتا ہے، سو جھاگ تو (پانی والا ہو یا آگ والا سب) بے کار ہو کر رہ جاتا ہے اور البتہ جو کچھ لوگوں کے لئے نفع بخش ہوتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے، اللہ اس طرح مثالیں بیان فرماتا ہےo

17. He sends down water from the sky and the valleys flow according to their (respective) capacity. Then the floodwater carries the scum raised to the surface. And the items that are heated in the fire for making ornaments or other articles also have foam that comes up the same way. Thus Allah illustrates examples of the truth and falsehood. So, (whether produced by water or by fire,) the foam or scum passes away useless, but what is beneficial to the people endures in the earth. That is how Allah illustrates examples.

(ar-Ra‘d, 13 : 17)
Play Copy
ﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈﰉﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐﰑﰒﰓﰔﰕﰖﰗﰘﰙﰚﰛﰜﰝ
لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰی ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ ۸۱۝

18. ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا حکم قبول کیا بھلائی ہے، اور جنہوں نے اس کا حکم قبول نہیں کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو سو وہ اسے (عذاب سے نجات کے لئے) فدیہ دے ڈالیں (تب بھی) انہی لوگوں کا حساب برا ہوگا، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہےo

18. For those who accept the command of their Lord, there is the excellent outcome. And those who reject His command, even though they possess all that is in the earth, and the like of it added to that, and they offer it as ransom (to be delivered from the torment, even then) they are the ones whose accountability will be horrible. And Hell is their abode, and that is a wretched abode.

(ar-Ra‘d, 13 : 18)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷ
كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ ۰۳۝

30. (اے حبیب!) اسی طرح ہم نے آپ کو ایسی امت میں (رسول بنا کر) بھیجا ہے کہ جس سے پہلے حقیقت میں (ساری) امتیں گزر چکی ہیں (اب یہ سب سے آخری امت ہے) تاکہ آپ ان پر وہ (کتاب) پڑھ کر سنا دیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور وہ رحمان کا انکار کر رہے ہیں، آپ فرما دیجئے: وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہےo

30. (O Beloved!) Thus We have sent you (as a Messenger) to an Umma (Community) before whom in fact (all) the communities have passed. (This is now the last of all the communities) so that you may recite to them that (Book) which We have revealed to you. And they are still denying al-Rahman (the Most Kind Lord). Say: ‘He is my Lord. There is no God but He. In Him have I put my trust and I turn towards Him alone.’

(ar-Ra‘d, 13 : 30)
Play Copy
ﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯ
وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰی ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا ؕ اَفَلَمْ یَایْـَٔسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَی النَّاسَ جَمِیْعًا ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ ۱۳۝

31. اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا اس سے زمین پھاڑ دی جاتی یا اس کے ذریعے مُردوں سے بات کرا دی جاتی (تب بھی وہ ایمان نہ لاتے)، بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں، تو کیا ایمان والوں کو (یہ) معلوم نہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت فرما دیتا، اور ہمیشہ کافر لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی (نہ کوئی) مصیبت پہنچتی رہے گی یا ان کے گھروں (یعنی بستیوں) کے آس پاس اترتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدۂ (عذاب) آپہنچے، بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتاo

31. And if there were a Qur’an by which mountains could be set in motion, or by which the earth could be split open, or by which the dead could be spoken to (even then they would not believe in it). But all matters are under the control of Allah. Have the believers not yet perceived that if Allah had so willed, He would have guided all mankind? And (some) disaster will continue afflicting the disbelievers due to their misdeeds, or will be alighting close to their homes (i.e., towns) until Allah’s promise (of torment) comes to pass. Surely, Allah does not go against His promise.

(ar-Ra‘d, 13 : 31)
Play Copy
Play Copy
ﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈﰉﰊﰋ
اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰی كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ ؕ اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ۳۳۝

33. کیا وہ (اللہ) جو ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہبانی فرما رہا ہے اور (وہ بت جو کافر) لوگوں نے اللہ کے شریک بنا لئے (ایک جیسے ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں)۔ آپ فرما دیجئے کہ ان کے نام (تو) بتاؤ۔ (نادانو!) کیا تم اس (اللہ) کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جس (کے وجود) کو وہ ساری زمین میں نہیں جانتا یا (یہ صرف) ظاہری باتیں ہی ہیں (جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں) بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) کافروں کے لئے ان کا فریب خوش نما بنا دیا گیا ہے اور وہ (سیدھی) راہ سے روک دیئے گئے ہیں، اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہو سکتاo

33. He (Allah) Who is watching the conduct of every soul and (these idols that the disbelievers) have made peers to Allah—(can they be alike? No way!) Say: ‘(Just) name them. (You fools!) Do you inform Him (Allah) of something whose (existence) He does not know in the whole earth? Or is it all (mere) superficial talk (which has no contact with reality)?’ Rather (the truth is that) the deceptive scheme of the disbelievers has been made fascinating to them, and they have been hindered from the (straight) path. And he whom Allah holds strayed, there is none who can be his guide.

(ar-Ra‘d, 13 : 33)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆ
وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ ۶۳۝

36. اور جن لوگوں کو ہم کتاب (تورات) دے چکے ہیں (اگر وہ صحیح مومن ہیں تو) وہ اس (قرآن) سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان (ہی کے) فرقوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اس کے کچھ حصہ کا انکار کرتے ہیں، فرما دیجئے کہ بس مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراؤں، اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہےo

36. And those whom We have given the Book (the Torah, if they are true believers, then) they rejoice at this (Qur’an) which has been revealed to you. And also some from amongst their sects are those who deny a part of it. Say: ‘I have been given the command to worship Allah and not to associate (any) partner with Him. I invite towards Him alone, and to Him I shall return.’

(ar-Ra‘d, 13 : 36)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy