Surah ash-Shūrā

Irfan Ul Quran
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣ
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰۤی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ ؕ كَبُرَ عَلَی الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ ۳۱۝

13. اُس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرّر فرمایا جس کا حکم اُس نے نُوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی اور جس کا حکم ہم نے ابراھیم اور موسٰی و عیسٰی (علیھم السلام) کو دیا تھا (وہ یہی ہے) کہ تم (اِسی) دین پر قائم رہو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو، مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (توحید کی بات) جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں۔ اللہ جسے (خود) چاہتا ہے اپنے حضور میں (قربِ خاص کے لئے) منتخب فرما لیتا ہے، اور اپنی طرف (آنے کی) راہ دکھا دیتا ہے (ہر) اس شخص کو جو (اللہ کی طرف) قلبی رجوع کرتا ہےo

13. He has prescribed for you the same path of the Din (Religion) that He enjoined on Nuh (Noah), and that We have revealed to you, and that We enjoined on Ibrahim (Abraham) and Musa (Moses) and ‘Isa (Jesus. And all it denotes is) that you should hold fast to the same Din (Religion) and do not make divisions in it. That (Oneness of Allah) to which you call them is quite hard for those who set up partners with Allah. Allah chooses whom He pleases (for exclusive nearness) in His presence, and shows the path to (come) towards Himself to everyone who turns (towards Allah) heartily.

(ash-Shūrā, 42 : 13)
Play Copy
ﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥ
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ ۴۱۝

14. اور انہوں نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد (اور ہٹ دھرمی) کی وجہ سے، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے مقررہ مدّت تک (کی مہلت) کا فرمان پہلے صادر نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کیا جا چکا ہوتا، اور بیشک جو لوگ اُن کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے تھے وہ خود اُس کی نسبت فریب دینے والے شک میں (مبتلا) ہیںo

14. And they did not break up into factions, but only after knowledge had reached them, merely on account of their mutual obstinacy (and stubbornness). And had the command of your Lord not gone forth concerning (a respite for) an appointed time, the judgment would have been given between them. And verily, those who were made inheritors of the Book after them are themselves in deceitful doubt about it.

(ash-Shūrā, 42 : 14)
Play Copy
ﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈﰉﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐﰑ
فَلِذٰلِكَ فَادْعُ ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ ۵۱۝

15. پس آپ اسی (دین) کے لئے دعوت دیتے رہیں اور جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے (اسی پر) قائم رہئے اور اُن کی خواہشات پر کان نہ دھریئے، اور (یہ) فرما دیجئے: جو کتاب بھی اللہ نے اتاری ہے میں اُس پر ایمان رکھتا ہوں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ اللہ ہمارا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث و تکرار نہیں، اللہ ہم سب کو جمع فرمائے گا اور اسی کی طرف (سب کا) پلٹنا ہےo

15. So keep calling them to this (Din [Religion]), and hold fast (to it) as the command has been given to you. And do not give any heed to their desires and say (this): ‘I believe in every Book that Allah has revealed, and I have been commanded to do justice between you. Allah is our Lord as well as your Lord. For us are our deeds and for you are your deeds. There is no debate and dispute between us and you. Allah will gather us all together and to Him is the return (of all).’

(ash-Shūrā, 42 : 15)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱ
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ ۳۲۝

23. یہ وہ (انعام) ہے جس کی خوشخبری اللہ ایسے بندوں کو سناتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، فرما دیجئے: میں اِس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر (میری) قرابت (اور اللہ کی قربت) سے محبت (چاہتا ہوں) اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں اُخروی ثواب اور بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہےo

23. That is (the award) of which Allah gives the good news to those servants who believe and do pious works persistently. Say: ‘I do not ask for any recompense for this (preaching the faith in Messengership), but (seek) love for (my) kindreds (and Allah’s nearness).’ And whoever earns good, We shall increase for him the reward in the Hereafter. Surely, Allah is Most Forgiving, Most Appreciative.

(ash-Shūrā, 42 : 23)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮ
وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِّیٍ ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ ۵۴۝

45. اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ دوزخ پر ذلّت اور خوف کے ساتھ سر جھکائے ہوئے پیش کئے جائیں گے (اسے چوری چوری) چھپی نگاہوں سے دیکھتے ہوں گے، اور ایمان والے کہیں گے: بیشک نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈال دیا، یاد رکھو! بیشک ظالم لوگ دائمی عذاب میں (مبتلا) رہیں گےo

45. And you will see them brought to Hell with their heads bent with disgrace and fear, looking at it covertly (with a stealthy glance) and the believers will say: ‘Surely, the losers are those who put their own souls and their families into loss on the Day of Rising. Remember! Indeed, the wrongdoers will remain in (the agony of) a lasting torment.

(ash-Shūrā, 42 : 45)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗ
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ ۸۴۝

48. پھر (بھی) اگر وہ رُوگردانی کریں تو ہم نے آپ کو اُن پر (تباہی سے بچانے کا) ذمّہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ آپ پر تو صرف (پیغامِ حق) پہنچا دینے کی ذمّہ داری ہے، اور بیشک جب ہم انسان کو اپنی بارگاہ سے رحمت (کا ذائقہ) چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور اگر انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے اُن کے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجے ہوئے اعمالِ (بد) کے باعث، تو بیشک انسان بڑا ناشکر گزار (ثابت ہوتا) ہےo

48. (Even) then if they turn away, We have not sent you with any responsibility for (saving) them (from destruction). You are responsible only to convey (the message of truth). And verily, when We make man taste (the savour) of mercy from Our presence, he feels pleased. But when some misfortune reaches them, owing to the (evil) deeds sent ahead by their own hands, then no doubt man (proves) to be highly ungrateful.

(ash-Shūrā, 42 : 48)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈﰉﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐ
وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ ۱۵۝

51. اور ہر بشر کی (یہ) مجال نہیں کہ اللہ اس سے (براہِ راست) کلام کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعے (کسی کو شانِ نبوت سے سرفراز فرما دے) یا پردے کے پیچھے سے (بات کرے جیسے موسٰی علیہ السلام سے طورِ سینا پر کی) یا کسی فرشتے کو فرستادہ بنا کر بھیجے اور وہ اُس کے اِذن سے جو اللہ چاہے وحی کرے (الغرض عالمِ بشریت کے لئے خطابِ اِلٰہی کا واسطہ اور وسیلہ صرف نبی اور رسول ہی ہوگا)، بیشک وہ بلند مرتبہ بڑی حکمت والا ہےo

51. And every man does not have the faculty that Allah should speak to him (directly) except by Revelation (He bestows upon some the holy status of Prophethood), or (should speak) from behind a veil (as He spoke to Musa [Moses] on Mount Tur of Sinai), or by sending some angel as a messenger to reveal with His permission what Allah may will. (In any case, the medium and mediation of the communication of Allah’s Word for mankind is none but the Prophet and the Messenger.) Surely, He is Most High, Most Wise.

(ash-Shūrā, 42 : 51)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮ
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ ۲۵۝

52. سو اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روحِ (قلوب و ارواح) کی وحی فرمائی (جو قرآن ہے)، اور آپ (وحی سے قبل اپنی ذاتی درایت و فکر سے) نہ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان (کے شرعی احکام کی تفصیلات کو ہی جانتے تھے جو بعد میں نازل اور مقرر ہوئیں)(1) مگر ہم نے اسے نور بنا دیا۔ ہم اِس (نور) کے ذریعہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت سے نوازتے ہیں، اور بیشک آپ ہی صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتے ہیں(2)o

1:- آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اُمّیت کی طرف اشارہ ہے تاکہ کفّار آپ کی زبان سے قرآن کی آیات اور ایمان کی تفصیلات سن کر یہ بدگمانی نہ پھیلائیں کہ یہ سب کچھ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ذاتی علم اور تفکر سے گھڑ لیا ہے کچھ نازل نہیں ہوا، سو یہ اَز خود نہ جاننا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم معجزہ بنا دیا گیا۔ 2:- اے حبیب! آپ کا ہدایت دینا اور ہمارا ہدایت دینا دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے اور صرف انہی کو ہدایت نصیب ہوتی ہے جو اس حقیقت کی معرفت اور اس سے وابستگی رکھتے ہیں۔

52. So thus We revealed to you Our Spirit (of hearts and souls) by Our command (that is the Qur’an). And (before the Revelation) you did not know what the Book was, nor did you know (through your own endeavour and insight the details of the injunctions of) faith (which were sent down and determined later).* But We made it a Light. By means of this Light, We give guidance to those of Our servants whom We intend. And assuredly, you alone provide guidance towards the straight path.**

* Here reference is made to the glory of the Holy Prophet (blessings and peace be upon him) as being an Ummi (not taught to read or write) so that the disbelievers, hearing the Verses of the Qur’an and the details of faith from him, may not spread this evil thought that the Holy Prophet Muhammad (blessings and peace be upon him) has invented it out of his personal knowledge, learning and scholarship and that nothing has been sent down to him. So this unletteredness has been one of his great miracles.
** O Beloved! The reality of guidance is the same whether by you or by Us. And guidance is only the share of the one who acquires the knowledge of this fact and then sticks to it tenaciously.

(ash-Shūrā, 42 : 52)
Play Copy