Surah at-Tawbah

Irfan Ul Quran
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏ
وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ۝

3. (یہ آیات) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے تمام لوگوں کی طرف حجِ اکبر کے دن اعلانِ (عام) ہے کہ اللہ مشرکوں سے بے زار ہے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (ان سے بری الذمّہ ہے)، پس (اے مشرکو!) اگر تم توبہ کر لو تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم نے روگردانی کی تو جان لو کہ تم ہرگز اللہ کو عاجز نہ کر سکو گے، اور (اے حبیب!) آپ کافروں کو دردناک عذاب کی خبر سنا دیںo

3. (These Verses) are a (public) declaration from Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) for all mankind on the day of the Great Pilgrimage that Allah is absolved of all obligations to the polytheists, and His Messenger (blessings and peace be upon him) too (is free from all obligations to them). So, (O polytheists,) if you repent, that is better for you, but if you turn away, then know that you cannot at all make Allah’s strategy ineffective. And, (O Beloved,) warn the disbelievers of a grievous torment,

(at-Tawbah, 9 : 3)
Play Copy
Play Copy
ﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥ
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۝

5. پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم (حسب اعلان جن) مشرکوں (نے تمہارے خلاف پہلے ہی سے جنگ شروع کر دی ہے، میدان جنگ میں ان) کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر دو یا اُنہیں گرفتار کر لو اور انہیں قید کر دو اور (انہیں پکڑنے اور گھیرنے کے لیے) ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو، پس اگر وہ (قیدی بنا لیے جانے کے بعد) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو (انہیں قید سے رہائی دیتے ہوئے) ان کا راستہ چھوڑ دو (کیونکہ اس صورت میں بھی معاہدۂ امن کی طرح جنگ کا جواز ختم ہوجائے گا)۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

5. So when the forbidden months are over, kill the (combatant) idolaters (who have already initiated war against you) wherever you find them (in the battlefield) or capture them and imprison them or lie in wait for them at every place of ambush (to besiege them). But, if they repent (after being taken as captives) and perform the prayer and give the alms, then leave their way open (by releasing them from captivity). Indeed, Allah is Most-Forgiving, Ever-Merciful.

(at-Tawbah, 9 : 5)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛ
وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ۝

12. اور اگر وہ (تم سے کیے گئے) اپنے معاہدہ کے بعد اپنے عہد توڑ دیں اور (معاہدۂ اَمن سے اِنحراف کر کے قتل عام اور پُر تشدد کارروائیوں کے ذریعے حالتِ جنگ بحال کرنے اور ریاستی اَمن کے لیے سخت خطرات پیدا کرنے کے ساتھ سرِ عام) تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو (اس صورت میں) تم (فتنہ و فساد اور دہشت گردی کا اِمکان ختم کرنے کے لیے) محاربت کے ان سرغنوں سے (پیشگی دفاعی) جنگ کرو، بے شک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے (یہ دفاعی اقدام اس لیے کرو) کہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آ جائیںo

12. And if they break their pledges after having made their treaty, and openly revile your religion (in violation of the treaty of peace, by restoring the state of war, through their acts of massacre and violence, and causing potential threat to state security), then fight the leaders of militancy (to pre-empt their aggression and invasion). Indeed, they have no (commitment to their) pledges. (This pre-emptive action is needed) so that they might stop (from their offensive designs).

(at-Tawbah, 9 : 12)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄ
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠۝

16. کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم (مصائب و مشکلات سے گزرے بغیر یونہی) چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ (ابھی) اللہ نے ایسے لوگوں کو متمیّز نہیں فرمایا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے اور (جنہوں نے) اللہ کے سوا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا اور اہلِ ایمان کے سوا (کسی کو) محرمِ راز نہیں بنایا، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہوo

16. Do you think that you will be spared (without passing through troubles and hardships), whilst Allah has not (yet) made distinctly known those amongst you who have fought in the way of Allah and (who) have not taken anyone as a confidant besides Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) and the believers? And Allah is Well Aware of the deeds that you do.

(at-Tawbah, 9 : 16)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝ
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ِ۟اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠۝

24. (اے نبی مکرم!) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتاo

24. (O Esteemed Messenger!) Say: ‘If your fathers (and forefathers) and your sons (and daughters) and your brothers (and sisters) and your wives and your (other) kith and kin and the riches that you have earned (so hard) and the trade and business that you fear may decline and the homes you are fond of are dearer to you than Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) and struggling in His cause, then wait until Allah brings His command (of torment). And Allah does not guide the disobedient.’

(at-Tawbah, 9 : 24)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚ
قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠۝

29. (اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی جوابی) جنگ کرو (جنہوں نے تمہارے ساتھ مدینہ میں کیے ہوئے معاہدۂ اَمن کو توڑ کر، جلا وطنی کے باوُجود جنگ اَحزاب میں مدینہ پر حملہ آور کفارِ مکہ کی اَفواج کی بھرپور مدد کی اور اب بھی تمہارے خلاف تمام ممکنہ سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں) جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق اختیارکرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (ریاست کے دستور اور نظام کے) تابع ہو کر اپنے ہاتھ سے ریاستی حفاظت کا ٹیکس (جو عسکری خدمات سے اِستثناء کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے) ادا کریںo

29. (O Muslims!) Wage (also a defensive) war against those of the People of the Book who (infringed the peace treaty signed with you in Medina, and despite being in exile, provided full support to the disbelieving Meccan invaders who imposed the battle of al-Ahzab [the Confederates] on Medina, and have continued every possible conspiracy against you even now). They do not have faith in Allah and the Last Day, and do not consider unlawful the things Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) have declared unlawful, and do not adopt the true Religion until they give in and surrender (to the state and constitution), by paying the state security tax with their own hands (in case of exemption from military services).

(at-Tawbah, 9 : 29)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ۝

34. اے ایمان والو! بیشک (اہلِ کتاب کے) اکثر علماء اور درویش، لوگوں کے مال ناحق (طریقے سے) کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (یعنی لوگوں کے مال سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور دینِ حق کی تقویت و اشاعت پر خرچ کئے جانے سے روکتے ہیں)، اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیںo

34. O believers! Indeed, the majority of the priests and monks (of the People of the Book) devour the wealth of people through unfair (means) and hinder from the path of Allah (i.e., fill their safes with people’s money, and hinder it from being spent for the publicity and promotion of the true Din [Religion]). And those who hoard silver and gold and do not spend it in the cause of Allah, warn them of a grievous torment.

(at-Tawbah, 9 : 34)
Play Copy
Play Copy
ﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭ
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ۝

36. بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتۂ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا۔ ان میں سے چار مہینے (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا حساب ہے۔ سو تم ان مہینوں میں (اَز خود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم (بھی) تمام (محارِب) مشرکین سے اسی طرح (جوابی) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب (اکٹھے ہو کر) تم سب پر جنگ مسلط کرتے ہیں، اور جان لو کہ بے شک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہےo

36. Indeed, the number of months with Allah has been (inscribed as) twelve in the Book of Allah (i.e., permanent Law of Nature) since the day He created (the system of) the heavens and the earth. Of these, four months (Rajab, Dhu al-Qa‘da, Dhu al-Hijja and Muharram) are sacred. This is the right Din (Religion). So do not wrong your souls during these months (by involving yourselves in fighting and war), and fight against all the (combatant) idolaters (in retaliation) the same way as they all (allied) have imposed war upon all of you, and bear in mind that Allah is surely with the Godfearing.

(at-Tawbah, 9 : 36)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳ
اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِـُٔوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠۝

37. (حرمت والے مہینوں کو) آگے پیچھے ہٹا دینا محض کفر میں زیادتی ہے اس سے وہ کافر لوگ بہکائے جاتے ہیں جو اسے ایک سال حلال گردانتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام ٹھہرا لیتے ہیں تاکہ ان (مہینوں) کا شمار پورا کر دیں جنہیں اللہ نے حرمت بخشی ہے اور اس (مہینے) کو حلال (بھی) کر دیں جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ ان کے لئے ان کے برے اعمال خوش نما بنا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافروں کے گروہ کو ہدایت نہیں فرماتاo

37. Postponing and deferring (the sacred months) is just an addition to disbelief. By this, the disbelievers are led astray; they, in one year, count it lawful and in another year regard it forbidden to complete the count (of the months) which Allah has made sacred and (they also) make that (month) lawful which Allah has declared unlawful. Their evil deeds have been made attractive to them, and Allah does not guide the community of disbelievers.

(at-Tawbah, 9 : 37)
Play Copy
ﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ۝

38. اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین (کی مادی و سفلی دنیا) کی طرف جھک جاتے ہو، کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سے راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت (کے مقابلہ) میں دنیوی زندگی کا ساز و سامان کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم (حیثیت رکھتا ہے)o

38. O believers! What is the matter with you that when you are asked to set out (to fight) in the way of Allah, you, weighing heavier, incline towards (the material and ignoble world of) the earth? Are you pleased with the life of this world rather than the Hereafter? So, the property and belongings of the life of this world are worthless in (comparison with) the Hereafter (and carry) but little (value).

(at-Tawbah, 9 : 38)
Play Copy
Play Copy
ﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴ
اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰی ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۝

40. اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبۂ اسلام کی جد و جہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے فرما رہے تھے: غمزدہ نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہےo

40. If you do not help him (the Holy Messenger of Allah in the struggle for the dominance of Islam, then what!). Indeed, Allah helped him (also at the time) when the disbelievers drove him away (from Mecca, his homeland,) whilst he was the second of the two (emigrants). Both (the Messenger [blessings and peace be upon him] and Abu Bakr) were in the cave (of Mount Thawr) when he said to his Companion (Abu Bakr): ‘Do not grieve. Allah is surely with us.’ So, Allah sent down His serenity upon him, and strengthened him by means of such armies (of angels) that you could not see, and He made the word of the disbelievers the lowermost, and Allah’s Word is (always) the uppermost and exalted. And Allah is Almighty, Most Wise.

(at-Tawbah, 9 : 40)
Play Copy
Play Copy
ﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺ
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠۝

42. اگر مالِ (غنیمت) قریب الحصول ہوتا اور (جہاد کا) سفر متوسط و آسان تو وہ (منافقین) یقیناً آپ کے پیچھے چل پڑتے لیکن (وہ) پُرمشقّت مسافت انہیں بہت دور دکھائی دی، اور (اب) وہ عنقریب اللہ کی قَسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے، وہ (ان جھوٹی باتوں سے) اپنے آپ کو (مزید) ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ واقعی جھوٹے ہیںo

42. Had the benefit (i.e., spoils of war) been a near gain and the journey (of fighting) easy and moderate, then they (the hypocrites) would certainly have followed you. But (that) arduous journey appeared to them far too long. And they will (now) swear by Allah soon: ‘Had we been able to go, we would certainly have marched forth with you.’ They are drawing upon themselves (added) destruction (by these lies), and Allah knows that they are liars beyond doubt.

(at-Tawbah, 9 : 42)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮ
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا ۖؗ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ۝

52. آپ فرما دیں: کیا تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں (یعنی فتح اور شہادت) میں سے ایک ہی کا انتظار کر رہے ہو (کہ ہم شہید ہوتے ہیں یا غازی بن کر لوٹتے ہیں)؟ اور ہم تمہارے حق میں (تمہاری منافقت کے باعث) اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ اپنی بارگاہ سے تمہیں (خصوصی) عذاب پہنچاتا ہے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو تم (بھی) انتظار کرو ہم (بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہیں (کہ کس کا انتظار نتیجہ خیز ہے)o

52. Say: ‘Are you simply waiting for one of the two good fortunes in our favour (i.e., victory or martyrdom: whether we are martyred or return victorious)? And we are waiting in your favour (in view of your hypocrisy) to see Allah afflict you with a (special) torment either from Himself or at our hands. So wait. We (too) are waiting with you (to see whose wait proves productive).’

(at-Tawbah, 9 : 52)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟ
وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِلَی اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠۝

59. اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتاo

59. How good it would have been if they had felt pleased with what Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) had given them and said: ‘Sufficient for us is Allah. Allah will soon confer on us His bounty and so will His Messenger ([blessings and peace be upon him] in addition). Indeed, we are inclined to Allah alone.’ (And the Messenger [blessings and peace be upon him] is His mediator; in fact, his bestowal is Allah’s. Had they developed this belief and refrained from sarcasm, it would have been better.)

(at-Tawbah, 9 : 59)
Play Copy
ﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚ
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۝

60. بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

60. Indeed, alms (Zakat) are meant for the poor and the indigent, and those who are deployed to collect charities and those in whose hearts the inculcation of love for Islam is aimed at. And, (moreover, spending Zakat for the) freeing of human lives (from the yoke of slavery) and removing the burden of those who are to pay debt and (those who toil hard) in the cause of Allah and the wayfarers (is true). This (all) has been prescribed by Allah, and Allah is All-Knowing, Most Wise.

(at-Tawbah, 9 : 60)
Play Copy
ﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷ
وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۝

61. اور ان (منافقوں) میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں: وہ تو کان (کے کچے) ہیں۔ فرما دیجئے: تمہارے لئے بھلائی کے کان ہیں۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان (کی باتوں) پر یقین کرتے ہیں اور تم میں سے جو ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے رحمت ہیں، اور جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (اپنی بدعقیدگی، بدگمانی اور بدزبانی کے ذریعے) اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہےo

61. And amongst these (hypocrites) are also those who hurt (the Esteemed) Messenger (blessings and peace be upon him) and say: ‘He is only an ear (believes everything he hears).’ Say: ‘He is all ears to what is good for you; he believes in Allah and has faith in (what) the believers (say) and is mercy for those of you who have embraced faith. And those who hurt the Messenger of Allah (by means of their evil beliefs, doubts and foul statements), for them there is grievous torment.’

(at-Tawbah, 9 : 61)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳ
كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا ؕ اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝

69. (اے منافقو! تم) ان لوگوں کی مثل ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ پس وہ اپنے (دنیوی) حصے سے فائدہ اٹھا چکے سو تم (بھی) اپنے حصے سے (اسی طرح) فائدہ اٹھا رہے ہو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے (لذّتِ دنیا کے) اپنے مقررہ حصے سے فائدہ اٹھایا تھا نیز تم (بھی اسی طرح) باطل میں داخل اور غلطاں ہو جیسے وہ باطل میں داخل اور غلطاں تھے۔ ان لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے اور وہی لوگ خسارے میں ہیںo

69. (O hypocrites!) You are like those who preceded you. They were far mightier than you in power and far richer in possessions and progeny. They benefited by their share (of the world); so are you (too) enjoying your portion (the same way) as your predecessors enjoyed their fixed share (of the worldly pleasures). Moreover, you (in like manner) have deeply indulged in falsehood as they deeply indulged in falsehood. Their works have gone fruitless in this world and in the Hereafter, and they are the ones who are the losers.

(at-Tawbah, 9 : 69)
Play Copy
ﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐ
اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ۝

70. کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے، قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور قومِ ابراہیم اور باشندگانِ مدین اور ان بستیوں کے مکین جو الٹ دی گئیں، ان کے پاس (بھی) ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تھے (مگر انہوں نے نافرمانی کی) پس اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ (انکارِ حق کے باعث) اپنے اوپر خود ہی ظلم کرتے تھےo

70. Has the news not reached them of those who were before them—the people of Nuh (Noah), ‘Ad and Thamud and the people of Ibrahim (Abraham) and the citizens of Madyan and the dwellers of the towns which were overturned? Their Messengers (too) came to them with clear signs (but they disobeyed). So, it was not Allah’s glory to wrong them, but it was they who used to wrong themselves (because of rejecting the truth).

(at-Tawbah, 9 : 70)
Play Copy
ﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬ
وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ ؕ اُولٰٓىِٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۝

71. اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہےo

71. The believers, men and women, are helpers and friends to one another. They command good and forbid evil and establish Prayer and pay Zakat (the Alms-due) and obey Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him). It is they on whom Allah will soon shower His Mercy. Surely, Allah is Almighty, Most Wise.

(at-Tawbah, 9 : 71)
Play Copy
ﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨ
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠۝

72. اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرما لیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانات کا بھی (وعدہ فرمایا ہے) جوجنت کے خاص مقام پر سدا بہار باغات میں ہیں، اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہوگی)، یہی زبردست کامیابی ہےo

72. Allah has promised the believers, men and women, Gardens with streams flowing beneath. They will dwell therein forever. And (He has also promised) blessed mansions located at a special site in Paradise amidst evergreen Gardens, and (then) the greatest (bliss of all) is the pleasure and acceptance of Allah (which will be awarded as a mighty compensation). This indeed is the highest achievement.

(at-Tawbah, 9 : 72)
Play Copy
Play Copy
ﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑ
یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۝

74. (یہ منافقین) اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے یقیناً کلمہ کفر کہا اور وہ اپنے اسلام (کو ظاہر کرنے) کے بعد کافر ہو گئے اور انہوں نے (کئی اذیت رساں باتوں کا) ارادہ (بھی) کیا تھا جنہیں وہ نہ پا سکے اور وہ (اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں سے) اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے غنی کر دیا تھا، سو اگر یہ (اب بھی) توبہ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر (اسی طرح) روگرداں رہیں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت (دونوں زندگیوں) میں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور ان کے لئے زمین میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگارo

74. (These hypocrites) swear by Allah that they have not said (anything), whereas they have definitely uttered blasphemy and have become disbelievers after (showing) their belief in Islam. They intended (many tortures too) that they could not achieve. And (out of Islam and the Messenger’s conduct) they could not disdain anything, except that Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) had made them affluent with His bounty. So if they repent (even now), it will be better for them, but if they remain averse (the same way), then Allah will afflict them with grievous torment, (both) in (the life of) this world and in the Hereafter, and they will not have any helper or friend on earth.

(at-Tawbah, 9 : 74)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬ
اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠۝

80. آپ خواہ ان (بدبخت، گستاخ اور آپ کی شان میں طعنہ زنی کرنے والے منافقوں) کے لئے بخشش طلب کریں یا ان کے لئے بخشش طلب نہ کریں، اگر آپ (اپنی طبعی شفقت اور عفو و درگزر کی عادتِ کریمانہ کے پیشِ نظر) ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش طلب کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں فرماتاo

80. Whether or not you seek forgiveness for these (wicked and arrogant hypocrites who dare scoff at Your Eminence), if you implore forgiveness for them seventy times (out of your natural compassion and your benevolent practice of forgiving and forbearing), even then Allah will not forgive them at all because they have rejected Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him) and Allah does not guide the rebels.

(at-Tawbah, 9 : 80)
Play Copy
ﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊ
فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ۝

81. رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے باعث (دفاعِ مدینہ کے لیے جہاد سے) پیچھے رہ جانے والے (یہ منافق) اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہو رہے ہیں وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کہتے تھے کہ اس گرمی میں نہ نکلو۔ فرما دیجیے: دوزخ کی آگ سب سے زیادہ گرم ہے، اگر وہ سمجھتے ہوتے (تو کیا ہی اچھا ہوتا)o

81. (These hypocrites) who stayed back (from fighting for the defence of Medina) due to opposing Allah’s Messenger (blessings and peace be upon him) are rejoicing over their sitting behind. They disliked it that they should strive in the cause of Allah with their wealth and their lives and said: ‘Do not move out in this heat.’ Say: ‘The Fire of Hell is far fiercer in heat.’ (How good it would be) if they could only understand!

(at-Tawbah, 9 : 81)
Play Copy
Play Copy
ﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮ
فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰی طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ۝

83. پس (اے حبیب!) اگر اللہ آپ کو (غزوۂ تبوک سے فارغ ہونے کے بعد) ان (منافقین) میں سے کسی گروہ کی طرف دوبارہ واپس لے جائے اور وہ آپ سے (آئندہ کسی اور غزوہ کے موقع پر جہاد کے لئے) نکلنے کی اجازت چاہیں تو ان سے فرما دیجئے گا کہ (اب) تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلنا اور تم میرے ساتھ ہو کر کبھی بھی ہرگز دشمن سے جنگ نہ کرنا (کیونکہ) تم پہلی مرتبہ (جہاد چھوڑ کر) پیچھے بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے تھے سو (اب بھی) پیچھے بیٹھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہوo

83. So, (O Beloved,) if Allah again takes you back to a party of these (hypocrites, when you are free from the battle of Tabuk,) and they seek your permission to go forth (to fight in the event of a future conflict), then say to them: ‘(Now) you shall never go forth with me, nor shall you ever accompany me to fight an enemy (because, abandoning the sacred struggle,) you rejoiced over sitting behind the first time. So, (this time as well,) stay behind along with those who remain behind.’

(at-Tawbah, 9 : 83)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥ
وَّ لَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ ۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ۝

92. اور نہ ایسے لوگوں پر (طعنہ و الزام کی راہ ہے) جبکہ وہ آپ کی خدمت میں (اس لئے) حاضر ہوئے کہ آپ انہیں (جہاد کے لئے) سوار کریں (کیونکہ ان کے پاس اپنی کوئی سواری نہ تھی تو) آپ نے فرمایا: میں (بھی) کوئی (زائد سواری) نہیں پاتا ہوں جس پر تمہیں سوار کر سکوں، (تو) وہ (آپ کے اذن سے) اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں (جہاد سے محرومی کے) غم میں اشکبار تھیں کہ (افسوس) وہ (اس قدر) زادِ راہ نہیں پاتے جسے وہ خرچ کر سکیں (اور شریک جہاد ہو سکیں)o

92. Nor can (anyway be scoffed or blamed) those who presented themselves to your service (with the purpose) that you may arrange for them mounts (for fighting, because they did not possess any means of conveyance). So you said: ‘I (also) do not find any (additional means) to mount you on.’ Then (with your permission) they returned in such a state that their eyes were streaming with tears in grief (of being deprived of fighting in the cause of Allah: Alas!) They did not have (much) wealth, which they could spend (and manage to take part in the sacred fight).

(at-Tawbah, 9 : 92)
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱ
یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ ؕ وَ سَیَرَی اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝

94. (اے مسلمانو!) وہ تم سے عذر خواہی کریں گے جب تم ان کی طرف (اس سفرِ تبوک سے) پلٹ کر جاؤ گے، (اے حبیب!) آپ فرما دیجئے: بہانے مت بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات پر یقین نہیں کریں گے، ہمیں اللہ نے تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے، اور اب (آئندہ) تمہارا عمل (دنیا میں بھی) اللہ دیکھے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (دیکھے گا) پھر تم (آخرت میں بھی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں ان تمام (اعمال) سے خبردار فرما دے گا جو تم کیا کرتے تھےo

94. (O Muslims!) When you return to them (from the expedition of Tabuk), they will offer their apologies to you. (O Beloved!) Say: ‘Do not make excuses; we will not believe you at all. Allah has informed us about your state of affairs. Now (in the future) Allah as well as His Messenger will see your performance (in the world). Then (in the Hereafter too) you will be returned to (the Lord) Who knows everything hidden and manifest, and He will make you know (all your works) that you used to do.’

(at-Tawbah, 9 : 94)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼ
وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠۝

99. اور بادیہ نشینوں میں (ہی) وہ شخص (بھی) ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتاہے اسے اللہ کے حضور تقرب اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (رحمت بھری) دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتا ہے، سن لو! بیشک وہ ان کے لئے باعثِ قربِ الٰہی ہے، جلد ہی اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرما دے گا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

99. And (yet) amongst these nomads there is (also) one who believes in Allah and the Last Day and considers whatever he spends (in the way of Allah) as a means of nearness to Allah and receiving (the merciful) supplications of the Messenger. Listen! Assuredly, it is a source of nearness to Allah. Allah will soon admit them to His mercy. Surely, Allah is Most Forgiving, Ever-Merciful.

(at-Tawbah, 9 : 99)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫ
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۝

100. اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہےo

100. And the Emigrants and their Supporters (Ansar), the vanguard of the believers, and those who follow them in the grade of spiritual excellence—Allah is well-pleased with them (all) and they (all) are well-pleased with Him. And He has prepared for them Gardens with rivers flowing under them. They will live in them forever. This is indeed a colossal achievement.

(at-Tawbah, 9 : 100)
Play Copy
ﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆ
وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ ۫ لَا تَعْلَمُهُمْ ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ۝

101. اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں (بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جملہ منافقین کا علم اور معرفت عطا کر دی گئی)۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ (دنیا ہی میں) عذاب دیں گے٭ پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گےo

٭ ایک بار جب ان کی پہچان کرا دی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ جمعہ کے دوران ان منافقین کو نام لے لے کر مسجد سے نکال دیا، یہ پہلا عذاب بصورتِ ذلت و رسوائی تھا؛ اور دوسرا عذاب بصورتِ ہلاکت و مُقاتلہ ہوا جس کا حکم بعد میں آیا۔

101. And, (O Muslims,) some amongst the nomad villagers around you and some citizens of Medina as well are hypocrites. They are adamant about hypocrisy. (So far) you know them not; We know them. (Later, the Holy Messenger [blessings and peace be upon him] was also given the knowledge and awareness of all the hypocrites.) Soon shall We torment them twice* (here in this world). Then they will be turned towards a greater torment (on the Day of Rising).

* Firstly, they were identified and the Holy Messenger (blessings and peace be upon him) expelled them from the Mosque pointing them out by name during his Friday address. This was the first torment in the form of humiliation and ignominy. Secondly, they were punished through fighting and killings, for which the command came later.

(at-Tawbah, 9 : 101)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫ
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰی ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۝

107. اور (منافقین میں سے وہ بھی ہیں) جنہوں نے ایک مسجد تیار کی ہے (مسلمانوں کو) نقصان پہنچانے اور کفر (کو تقویت دینے) اور اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے اور اس شخص کی گھات کی جگہ بنانے کی غرض سے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہی سے جنگ کر رہا ہے، اور وہ ضرور قَسمیں کھائیں گے کہ ہم نے (اس مسجد کے بنانے سے) سوائے بھلائی کے اور کوئی ارادہ نہیں کیا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیںo

107. And (from amongst the hypocrites there are also those) who have erected a mosque to harm (the Muslims) and (promote) disbelief and disunite the believers, and as an ambush for the one who is already at war against Allah and His Messenger (blessings and peace be upon him). They will surely swear: ‘We have intended nothing but good (by constructing this mosque).’ And Allah bears witness that they are certainly liars.

(at-Tawbah, 9 : 107)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿﰀﰁ
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ ۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ ؕ وَ مَنْ اَوْفٰی بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۝

111. بے شک اللہ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لیے (وعدۂ) جنّت کے عوض خرید لیے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں (اِنسانی حرمت کے تحفظ اور معاشرے میں قیامِ اَمن کے اعلیٰ تر مقاصد کے لیے) جنگ کرتے ہیں، سو وہ (دورانِ جنگ) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کیے جاتے ہیں۔ (اللہ نے) اپنے ذمۂ کرم پر پختہ وعدہ (لیا) ہے، تَورات میں (بھی) انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی)، اور کون اپنے وعدہ کو اللہ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے سودے پر خوشیاں مناؤ جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے، اور یہی تو زبردست کامیابی ہےo

111. Surely, Allah has bought from the believers their souls and wealth in return for (the promise of) Paradise for them. (Now) they fight in the way of Allah (to attain the sublime objectives of the protection of human dignity and establishment of peace in society). So they kill (during the war) and are slain (themselves) too. (Allah has taken) the firm promise as a bountiful obligation on Him in the Torah, the Gospel (the Injil) and the Qur’an. And who is truer to his promise than Allah? So, (believers,) rejoice over your bargain against which you have sold (your souls and wealth). This is a colossal achievement.

(at-Tawbah, 9 : 111)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢ
اَلتَّآىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۝

112. (یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئےo

112. (These believers who have bargained with Allah for the Hereafter are those) who turn to Allah in repentance, and who worship, praise and glorify (Allah), and fast, abstaining from the worldly lusts, and bow down before Him (most humbly and submissively), and who prostrate themselves before Him (seeking His nearness), command good and forbid evil, and guard the limits (set) by Allah. And give glad tidings to these believers.

(at-Tawbah, 9 : 112)
Play Copy
Play Copy
ﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏ
وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ۝

114. اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ (یعنی چچا آزر، جس نے آپ کو پالا تھا) کے لئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وعدہ کی غرض سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے زار ہوگئے (اس سے لاتعلق ہوگئے اور پھر کبھی اس کے حق میں دعا نہ کی)۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے دردمند (گریہ و زاری کرنے والے اور) نہایت بردبار تھےo

114. And Ibrahim’s (Abraham’s) praying for his father’s (i.e., Azar, his uncle who brought him up) forgiveness was only due to the promise that he had made to him. But when it became evident to him that he was an enemy of Allah, he parted with him (dissociated himself from him and never prayed for him afterwards). Surely, Ibrahim (Abraham) was most compassionate (tender-hearted, tearful) and profoundly forbearing.

(at-Tawbah, 9 : 114)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵ
لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ۝

117. یقیناً اللہ نے نبی (معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت سے توجہ فرمائی اور ان مہاجرین اور انصار پر (بھی) جنہوں نے (غزوۂ تبوک کی) مشکل گھڑی میں (بھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کی اس (صورتِ حال) کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل پھر جاتے، پھر وہ ان پر لطف و رحمت سے متوجہ ہوا، بیشک وہ ان پر نہایت شفیق، نہایت مہربان ہےo

117. Surely, Allah turned in His mercy towards the Prophet (blessings and peace be upon him) and (also) towards the Emigrants and the Helpers who followed him (even) in the hour of distress (of the battle of Tabuk), after (the situation emerged wherein) the hearts of a party of them had nearly deviated. Then He turned towards them with bestowal and mercy. Allah is indeed Most Compassionate and Ever-Merciful towards them.

(at-Tawbah, 9 : 117)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱ
وَّ عَلَی الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠۝

118. اور ان تینوں شخصوں پر (بھی نظرِ رحمت فرما دی) جن (کے فیصلہ) کو مؤخر کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی اور (خود) ان کی جانیں (بھی) ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ (کے عذاب) سے پناہ کا کوئی ٹھکانا نہیں بجز اس کی طرف (رجوع کے)، تب اللہ ان پر لطف وکرم سے مائل ہوا تاکہ وہ (بھی) توبہ و رجوع پر قائم رہیں، بیشک اللہ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا، نہایت مہربان ہےo

118. And (He also turned towards) those three persons (with merciful compassion) whose (decision) was deferred until, when the earth, despite all its vastness, closed in upon them, and their (own) souls (too) became cumbersome for them, and they knew for sure that there is no refuge from (the torment of) Allah except in (turning towards) Him. Allah then inclined towards them in bestowal and kindness so that they (too) might persevere with repentance and inclination. Surely, Allah is the One Who is Most Relenting, Ever-Merciful.

(at-Tawbah, 9 : 118)
Play Copy
Play Copy
ﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱ
مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ۝

120. اہلِ مدینہ اور ان کے گرد و نواح کے (رہنے والے) دیہاتی لوگوں کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الگ ہو کر) پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جانِ (مبارک) سے زیادہ اپنی جانوں سے رغبت رکھیں، یہ (حکم) اس لئے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو پیاس (بھی) لگتی ہے اور جو مشقت (بھی) پہنچتی ہے اور جو بھوک (بھی) لگتی ہے اور جو کسی ایسی جگہ پر چلتے ہیں جہاں کاچلنا کافروں کو غضبناک کرتا ہے اور دشمن سے جو کچھ بھی پاتے ہیں (خواہ قتل اور زخم ہو یا مالِ غنیمت وغیرہ) مگر یہ کہ ہر ایک بات کے بدلہ میں ان کے لئے ایک نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اَجر ضائع نہیں فرماتاo

120. It was unbecoming the people of Medina and the villagers (inhabitants) of the suburbs to lag behind (stepping aside from) Allah’s Messenger (blessings and peace be upon him), nor to feel for their own souls greater concern than his (blessed and sacred) soul. This (command) is because in the cause of Allah (whatever) thirst they suffer, (whatever) turmoil they undergo, (whatever) hunger they endure, and stepping on a track where treading rouses violent reaction amongst the disbelievers, and whatever they receive from the enemy (killing and injury or spoils of war): in recompense of everything is recorded a good deed to their credit. Surely, Allah does not waste the reward of the righteous.

(at-Tawbah, 9 : 120)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ۝

123. اے ایمان والو! تم کافروں میں سے ایسے لوگوں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں (یعنی جو جنگ میں تمہارے مدِ مقابل ہیں اور تمہارے خلاف براہِ راست جارحیت میں ملوث ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ تم سے دور اپنے گھروں میں ہیں یا اپنے کام کاج میں مصروف ہیں انہیں چھوڑ دو، انہیں قتل کرنے کی اِجازت نہیں ہے)، اور (جہاد ایسا اور اس وقت ہو کہ) وہ تمہارے اندر (طاقت و شجاعت اور دفاعی صلاحیت کی) سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہےo

123. O believers! Fight against those of the disbelievers who are around you (i.e., who are your adversaries and are directly involved in waging war against you. Contrarily, spare and do not kill those who are far from you, engaged in domestic chores). And (fight in a way and at a time that) they find in you toughness (of might, valour and defensive capability). And bear in mind that Allah is with those who guard themselves against evil.

(at-Tawbah, 9 : 123)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy