Surah az-Zumar

Irfan Ul Quran
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩ
اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَی اللّٰهِ زُلْفٰی ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ ۳۝

3. (لوگوں سے کہہ دیں:) سُن لو! طاعت و بندگی خالصۃً اللہ ہی کے لئے ہے، اور جن (کفّار) نے اللہ کے سوا (بتوں کو) دوست بنا رکھا ہے، وہ (اپنی بُت پرستی کے جھوٹے جواز کے لئے یہ کہتے ہیں کہ) ہم اُن کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرّب بنا دیں، بے شک اللہ اُن کے درمیان اس چیز کا فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، یقیناً اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں فرماتا جو جھوٹا ہے، بڑا ناشکر گزار ہےo

3. (Say to the people:) ‘Listen! Sincere obedience and worship is only Allah’s due.’ And those (disbelievers) who have taken (idols as) helpers other than Allah (say in false justification of their idol-worship:) ‘We worship them only that they may bring us near to Allah.’ Surely, Allah will judge between them concerning the matter in which they differ. Certainly, Allah does not give guidance to the one who is a liar and highly ungrateful.

(az-Zumar, 39 : 3)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹ
خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ۶۝

6. اُس نے تم سب کو ایک حیاتیاتی خلیہ سے پیدا فرمایا پھر اس سے اسی جیسا جوڑ بنایا پھر اُس نے تمہارے لیے جانوروں میں سے آٹھ (نر اور مادہ) جوڑے مہیا کیے، وہ تمہاری ماؤں کے رحِموں میں ایک تخلیقی مرحلہ سے اگلے تخلیقی مرحلہ میں ترتیب کے ساتھ تمہاری تشکیل کرتا ہے (اِس عمل کو) تین قِسم کے تاریک پردوں میں (مکمل فرماتا ہے)، یہی تمہارا پروردگار ہے جو سب قدرت و سلطنت کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر (تخلیق کے یہ مخفی حقائق جان لینے کے بعد بھی) تم کہاں بہکے پھرتے ہوo

6. He has created all of you from a single life cell, and then made from it a similar pair. And then He brought about for you eight living animals in pairs. He shapes you in the wombs of your mothers from one creative phase into the next in sequence and (completes this process) in three (germinal) layers. This is Allah, your Lord, to Whom belongs all Power and Authority. There is no God except He. Where then are you deviated (and disoriented after knowing these concealed realities of creation)?

(az-Zumar, 39 : 6)
Play Copy
ﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞ
اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ ۫ وَ لَا یَرْضٰی لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ ثُمَّ اِلٰی رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۷۝

7. اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو تم کرتے رہے تھے، بے شک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہےo

7. If you disbelieve, then surely Allah is Self-Sufficient and He does not like disbelief (and ingratitude) for His servants, and if you give thanks, (so) He likes that for you. And no bearer of burden will bear the burden of any other. Then you have to return to your Lord. Then He will inform you of the deeds which you used to do. Surely, He knows best the secrets of the hearts.

(az-Zumar, 39 : 7)
Play Copy
ﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥ
وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۸۝

8. اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے، پھر جب (اللہ) اُسے اپنی جانب سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اُس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لئے وہ پہلے دعا کیا کرتا تھا اور (پھر) اللہ کے لئے (بتوں کو) شریک ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ (دوسرے لوگوں کو بھی) اس کی راہ سے بھٹکا دے، فرما دیجئے: (اے کافر!) تو اپنے کُفر کے ساتھ تھوڑا سا (ظاہری) فائدہ اٹھا لے، تو بے شک دوزخیوں میں سے ہےo

8. And when some suffering afflicts man, he turns to his Lord and cries out. Then when (Allah) grants him some blessing from Himself, he forgets that (suffering) which he used to beseech relief from. And (then) he sets up (idols) as partners with Allah to make (others also) lose His way. Say: ‘(O disbeliever,) profit a little (worldly gain) from your disbelief; you are certainly of the inmates of Hell.

(az-Zumar, 39 : 8)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯼﯽﯾﯿﰀﰁﰂﰃﰄﰅﰆﰇﰈﰉﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐﰑﰒﰓﰔﰕﰖﰗﰘﰙﰚﰛﰜ
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ ۱۲۝

21. (اے انسان!) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر زمین میں اس کے چشمے رواں کیے، پھر اس کے ذریعے کھیتی پیدا کرتا ہے جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، پھر وہ (تیار ہوکر) خشک ہو جاتی ہے، پھر (پکنے کے بعد) تو اسے زرد دیکھتا ہے، پھر وہ اسے چورا چورا کر دیتا ہے، بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہےo

21. (O man!) Have you not seen that Allah showered water from the sky, then made it sprout from the earth as water springs? Then He brings forth with it crops of various colours. Then (growing fully) it dries up. Then, (ripening,) you see it turns yellow. Then He reduces it to broken straw. Surely, there is advice in it for the wise.

(az-Zumar, 39 : 21)
Play Copy
Play Copy
ﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾﭿﮀﮁﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌ
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰی ذِكْرِ اللّٰهِ ؕ ذٰلِكَ هُدَی اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ۳۲۝

23. اللہ ہی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایک کتاب ہے جس کی باتیں (نظم اور معانی میں) ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں (جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں)۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے۔ اور اللہ جسے گمراہ کر دیتا (یعنی گمراہ چھوڑ دیتا) ہے تو اُس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتاo

23. Allah is the One Who has sent down the best Word. That is a Book whose contents are in harmony with one another (in format and meaning) and (whose Verses) are repeated frequently. It sends a hair-raising shudder in the bodies of those who fear their Lord. Then their skins and hearts get softened, and they get (absorbed) into the remembrance of Allah (in a weeping mood). It is guidance from Allah and He guides with it whom He wills. And he whom Allah holds misguided (i.e., leaves astray) has no one to guide him.

(az-Zumar, 39 : 23)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﰁﰂﰃﰄﰅ
اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَؗ ۰۳۝

30. (اے حبیبِ مکرّم!) بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لئے) آنی ہے اور وہ یقیناً (دائمی ہلاکت کے لئے) مردہ ہو جائیں گے (پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)۔٭o

٭جس طرح آیت : 29 میں دی گئی مثال کے مطابق دو افراد کے اَحوال قطعاً برابر نہیں ہوں گے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور دوسروں کی موت بھی ہرگز برابر یا مماثل نہیں ہوں گی۔ دونوں کی ماہیت اور حالت میں عظیم فرق ہوگا۔ یہ مثال اسی مقصد کے لئے بیان کی گئی تھی کہ شانِ نبوّت کے باب میں ہمسری اور برابری کا گمان کلیتہً ردّ ہو جائے۔ جیسے ایک مالک کا غلام صحیح اور سالم رہا اور بہت سے بدخو مالکوں کا غلام تباہ حال ہوا اسی طرح اے حبیبِ مکرّم! آپ تو ایک ہی مالک کے برگزیدہ بندے اور محبوب و مقرب رسول ہیں سو وہ آپ کو ہر حال میں سلامت رکھے گا اور یہ کفار بہت سے بتوں اور شریکوں کی غلامی میں ہیں سو وہ انہیں بھی اپنی طرح دائمی ہلاکت کا شکار کر دیں گے۔

30. (O My Esteemed Beloved!) Surely, you will pass away (only to taste death) but they will certainly die (for everlasting death.* So the difference between the two deaths will be worth seeing).

* As the two cases cited in the Verse twenty-nine cannot be equal, likewise it is said that the passing of the Holy Prophet (blessings and peace be upon him) and the death of others can never be equal or alike; both are far different in reality and appearance. This example has been given just to refute the idea of equality and likeness with regard to the glory and dignity of the Prophethood. As the slave of one man is safe and secure and a slave shared by many bad masters is ruined—in like manner, O My Esteemed Beloved, you are the chosen servant of One Master and are His Beloved and intimate servant, so He will keep you secure and intact under all circumstances. But these disbelievers are the servants of so many idols and self-made gods, and they will make them fall victim to eternal extinction like themselves.

(az-Zumar, 39 : 30)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬ
وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ ۸۳۝

38. اور اگر آپ اُن سے دریافت فرمائیں کہ آسمانوں اور زمین کو کِس نے پیدا کیا تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے، آپ فرما دیجئے: بھلا یہ بتاؤ کہ جن بتوں کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ (بُت) اس کی (بھیجی ہوئی) تکلیف کو دُور کرسکتے ہیں یا وہ مجھے رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ (بُت) اس کی (بھیجی ہوئی) رحمت کو روک سکتے ہیں، فرما دیجئے: مجھے اللہ کافی ہے، اسی پر توکل کرنے والے بھروسہ کرتے ہیںo

38. And if you ask them: ‘Who has created the heavens and the earth?’ they will certainly say: ‘Allah.’ Say: ‘Well, speak up, can the idols that you worship besides Allah remove the suffering which Allah may intend to inflict upon me, or if Allah intends to grant me mercy, can they (the idols) stop that mercy (sent by Him)?’ Say: ‘Allah is Sufficient for me. The trusting ones put their trust in Him alone.’

(az-Zumar, 39 : 38)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧ
وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰی جَهَنَّمَ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا ؕ قَالُوْا بَلٰی وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَی الْكٰفِرِیْنَ ۱۷۝

71. اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ دوزخ کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اُس (جہنم) کے پاس پہنچیں گے تو اُس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے اُن سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیات پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اِس دن کی پیشی سے ڈراتے تھے؟ وہ (دوزخی) کہیں گے: ہاں (آئے تھے)، لیکن کافروں پر فرمانِ عذاب ثابت ہو چکا ہوگاo

71. And those who have disbelieved will be driven to Hell in groups until, when they approach it (Hell), its gates will be opened and its keepers will say to them: ‘Did Messengers not come to you from amongst yourselves who recited to you the Verses of your Lord and warned you of this Day’s appearance?’ They (the inmates of Hell) will say: ‘Yes, (they came).’ But the command of torment will have been carried out against the disbelievers.

(az-Zumar, 39 : 71)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy