Surah Muhammad

Irfan Ul Quran
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮂﮃﮄﮅﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪ
فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ۝

4. پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو (کیونکہ انہوں نے انسانیت کا قتل عام کیا اور فساد انگیزی کے ذریعے امن برباد کیا)، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو، پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) احسان کرتے ہوئے (بلا معاوضہ چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضۂ رہائی) لے کر (آزاد کر دو) یہاں تک کہ جنگ (کرنے والی مخالف فوج) اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے)۔ یہی (حکم) ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے (بغیر جنگ) انتقام لے لیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے، اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گاo

4. So when you are to fight (for the elimination of militancy and terrorism) against the (warring) disbelievers (in the battlefield), strike their necks (whilst fighting because they slaughtered harmless human lives and destroyed peace by their terrorist activities) till, when you have killed a good many of them (in the battle), then tie (the remaining prisoners) tightly. Thereafter, either set (them) free (without ransom) as a favour or (free them) for ransom (i.e., cost of freedom) till the warring (hostile army) lays down its weapons (i.e., announces the truce). That is (the command). And if Allah had willed, He would have avenged Himself on them (without war). But (He did not do so) in order to try some of you by means of others. And as for those who are slain in the way of Allah, He will not at all make their actions fruitless.

(Muhammad, 47 : 4)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﮆﮇﮈﮉﮊﮋﮌﮍﮎﮏﮐﮑﮒﮓﮔﮕﮖﮗﮘﮙﮚﮛﮜﮝﮞﮟﮠﮡﮢﮣﮤﮥﮦﮧﮨﮩﮪﮫﮬﮭﮮﮯﮰﮱﯓﯔﯕﯖ
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ۝

15. جس جنّت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی (بو یا رنگت کا) تغیّر نہ آئے گا، اور (اس میں ایسے) دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ اور مزہ کبھی نہ بدلے گا، اور (ایسے) شرابِ (طہور) کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہے، اور خوب صاف کئے ہوئے شہد کی نہریں ہوں گی، اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے (ہر طرح کی) بخشائش ہوگی، (کیا یہ پرہیزگار) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گاo

15. A feature of the Paradise which is promised to the Godfearing is that therein are streams of (such) water as will never putrefy (in smell or colour), and (in it) will be streams of milk whose taste and flavour will never change, and streams of (such a pure) wine that is an absolute delight for all who drink it and streams of purified honey; and (in it) will be fruits of every kind (for them) and forgiveness (of every sort) from their Lord. Can this (pious man) be like those who are permanent residents of Hell and who will be given scalding water to drink which will cut their gut into pieces?

(Muhammad, 47 : 15)
Play Copy
ﯗﯘﯙﯚﯛﯜﯝﯞﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰ
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ ۚ حَتّٰۤی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا ۫ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ۝

16. اور ان میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو آپ کی طرف (دل اور دھیان لگائے بغیر) صرف کان لگائے سنتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر (باہر) جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علمِ (نافع) عطا کیا گیا ہے کہ ابھی انہوں نے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) کیا فرمایا تھا؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیںo

16. And amongst them are those who give ears to you (without their heads and hearts in it) till, when they leave your presence and go (out), they ask those who have been given (profitable) knowledge: ‘What is it that he (the Messenger [blessings and peace be upon him]) said just now?’ It is they whose hearts Allah has sealed up and they are following their lusts.

(Muhammad, 47 : 16)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﰊﰋﰌﰍﰎﰏﰐﰑﰒﰓﰔﰕﰖﰗﰘﰙ
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠۝

19. پس جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر اللہ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے (اپنی شان اقدس اور خصوصی عظمت و رِفعت کے تناظر میں) خلافِ اَولیٰ فعل صادر نہ ہو جائے* اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامان بخشش ہے)، اور (اے لوگو!) اللہ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہےo

٭ (حالانکہ وہ فعل اپنی جگہ شرعاً بالکل جائز بلکہ مستحسن ہو گا مگر آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ اور عظمت و رِفعت محض جواز اور استحسان کے مراتب سے بھی بہت بلند اور اَرفع و اَعلیٰ ہے)

19. Know then that there is no God except Allah and (to offer worship and to educate the Umma [Community]) always ask forgiveness (from Allah) lest (in the perspective of your glory, majesty and exaltation peculiar to you alone) an action unworthy of your incomparable station may transpire.* And also seek forgiveness (i.e., intercede) for the believing men and women (for that is all they may have in balance for forgiveness). And, (O people,) Allah knows (all about) the places where you move about (in the world) and your mansions of repose (in the Hereafter).

* Given that the action may be a pious deed compatible with Islamic law, rather an act par excellence, your august station, majesty and exaltation is far elevated and dignified than mere permissibility and higher grades of moral excellence.

(Muhammad, 47 : 19)
Play Copy
ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟﭠﭡﭢﭣﭤﭥﭦﭧﭨﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯ
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ ؕ فَاَوْلٰی لَهُمْۚ۝

20. اور ایمان والے کہتے ہیں کہ (اپنے دفاع میں جنگ کی اِجازت سے متعلق) کوئی سورت کیوں نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی واضح سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں (دفاعی) جنگ کا (صریحاً) ذکر کیا جاتا ہے تو آپ ایسے لوگوں کو جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے (اور وہ آپ کی اور مسلمانوں کی سلامتی نہیں چاہتے) ملاحظہ فرماتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف (اس طرح) دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ سو ان کے لیے خرابی ہےo

20. And the believers say why a Sura (Chapter) is not revealed (about the permission to fight in defence). But when a clear Sura is revealed and (defensive) fighting for the cause of Allah is (plainly) mentioned in it, you see those who have the disease (of hypocrisy) in their hearts (and who do not want your and the believers’ safety) looking at you like someone who is fainting to death. So, for them is disaster.

(Muhammad, 47 : 20)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﭩﭪﭫﭬﭭﭮﭯﭰﭱﭲﭳﭴﭵﭶﭷﭸﭹﭺﭻﭼﭽﭾ
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰی ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْـًٔا ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ۝

32. بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت (اور ان سے جدائی کی راہ اختیار) کی اس کے بعد کہ ان پر ہدایت (یعنی عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت) واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کا ہرگز کچھ نقصان نہیں کر سکیں گے (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت کو گھٹا نہیں سکیں گے)،٭ اور اللہ ان کے (سارے) اعمال کو (مخالفتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باعث) نیست و نابود کر دے گاo

٭ تمام ائمہ تفسیر نے لکھا ہے: (لَن يَضُرُوا اللّہَ شَيْئًا) أی: لن یضرّوا رسولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بمشاقتہ و حذف المضاف لتعظیم شانہ۔ ملاحظہ فرمائیں: الطبری، البیضاوی، روح المعانی، روح البیان، الجمل، البحر المدید وغیرہ۔ اس اُسلوبِ کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں جن میں سے ایک سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 9 (یُخٰدِعُوْنَ اللهَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) ہے۔ اس مقام پر یخٰدعون الله (وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) کہہ کر مراد یُخٰدِعُونَ رَسُولَ اللهِ (وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) لیا گیا ہے۔

32. Indeed, those who disbelieved and hindered (the people) from the way of Allah and opposed the Messenger (blessings and peace be upon him), (and chose the path of breaking away from him,) after the guidance (i.e., the gnosis of the veneration of the Holy Messenger [blessings and peace be upon him]) had become clear to them, they would not be able to harm Allah anyway (i.e., would not be able to decrease the incomparable superiority and pre-eminence of the Messenger* [blessings and peace be upon him]). Allah will wreck (all) their works (due to their opposition to the Holy Messenger [blessings and peace be upon him]).

* According to the leading exegetes like al-Tabari, al-Baydawi, al-Alusi, al-Haqqi, al-Jumal, Ibn ‘Ujayba, etc., there are many examples of this style of exposition in the Holy Qur’an such as verse 9 of <i>Sura al-Baqara.</i> Here the words, ‘They want to deceive Allah’ imply: ‘They want to deceive the Holy Messenger (blessings and peace be upon him).’

(Muhammad, 47 : 32)
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
Play Copy
ﯟﯠﯡﯢﯣﯤﯥﯦﯧﯨﯩﯪﯫﯬﯭﯮﯯﯰﯱﯲﯳﯴﯵﯶﯷﯸﯹﯺﯻﯼﯽﯾﯿ
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠۝

38. یاد رکھو! تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بُخل کرتے ہیں، اور جو کوئی بھی بُخل کرتا ہے وہ محض اپنی جان ہی سے بخل کرتا ہے، اور اللہ بے نیاز ہے اور تم (سب) محتاج ہو، اور اگر تم (حکمِ الٰہی سے) رُوگردانی کرو گے تو وہ تمہاری جگہ بدل کر دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گےo

38. Remember! You are those who are called to spend in the way of Allah. Then there are some of you who act miserly. And whoever acts miserly does it only against himself. And Allah is Independent and you (all) are dependent. And if you turn away from the command of Allah, He will replace you with another people who will not be like you.

(Muhammad, 47 : 38)