Play Copy

ﭑﭒﭓﭔﭕﭖﭗﭘﭙﭚﭛﭜﭝﭞﭟ

5. اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لئے مغفرت طلب فرمائیں تو یہ (منافق گستاخی سے) اپنے سر جھٹک کر پھیر لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ تکبر کرتے ہوئے (آپ کی خدمت میں آنے سے) گریز کرتے ہیں٭o

٭ یہ آیت عبد اللہ بن اُبیّ (رئیس المنافقین) کے بارے میں نازل ہوئی، جب اسے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں بخشش طلبی کے لئے حاضر ہونے کا کہا گیا تو سر جھٹک کر کہنے لگا: میں نہیں جاتا، میں ایمان بھی لا چکا ہوں، ان کے کہنے پر زکوٰۃ بھی دے دی ہے۔ اب کیا باقی رہ گیا ہے فقط یہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ بھی کروں؟ (الطبری، الکشاف، نسفی، بغوی، خازن)۔

5. And when it is said to them: ‘Come so that Allah’s Messenger (blessings and peace be upon him) may seek forgiveness for you,’ these (hypocrites) jerk their heads aside (insolently) and you see them keeping away (from your presence) in arrogance.*

* This verse was sent down concerning ‘Abd Allah b. Ubayy (the chief of the hypocrites). When asked to appear before the presence of the Holy Prophet (blessings and peace be upon him) for seeking forgiveness, he said twisting his head: ‘I will not go. I have believed and have paid Zakat (the Alms-due) on his advice. Now what is left except that I should now prostrate myself before Muhammad?’

(الْمُنَافِقُوْن، 63 : 5)