Play Copy


34. اے ایمان والو! بیشک (اہلِ کتاب کے) اکثر علماء اور درویش، لوگوں کے مال ناحق (طریقے سے) کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (یعنی لوگوں کے مال سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور دینِ حق کی تقویت و اشاعت پر خرچ کئے جانے سے روکتے ہیں)، اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیںo

34. O believers! Indeed, the majority of the priests and monks (of the People of the Book) devour the wealth of people through unfair (means) and hinder from the path of Allah (i.e., fill their safes with people’s money, and hinder it from being spent for the publicity and promotion of the true Din [Religion]). And those who hoard silver and gold and do not spend it in the cause of Allah, warn them of a grievous torment.

(التَّوْبَة، 9 : 34)