Play Copy


40. اور جب تمہاری بہن (اجنبی بن کر) چلتے چلتے (فرعون کے گھر والوں سے) کہنے لگی: کیا میں تمہیں کسی (ایسی عورت) کی نشاندہی کر دوں جو اس (بچہ) کی پرورش کر دے، پھر ہم نے تم کو تمہاری والدہ کی طرف (پرورش کے بہانے) واپس لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھ بھی ٹھنڈی ہوتی رہے اور وہ رنجیدہ بھی نہ ہو، اور تم نے (قومِ فرعون کے) ایک (کافر) شخص کو مار ڈالا تھا پھر ہم نے تمہیں (اس) غم سے (بھی) نجات بخشی اور ہم نے تمہیں بہت سی آزمائشوں سے گزار کر خوب جانچا، پھر تم کئی سال اہلِ مدین میں ٹھہرے رہے پھر تم (اللہ کے) مقرر کردہ وقت پر (یہاں) آگئے اے موسٰی! (اس وقت ان کی عمر ٹھیک چالیس برس ہوگئی تھی)o

40. (And) when your sister, (posing as a stranger,) walking along, said (to Pharaoh’s family): Shall I point out to you (a woman) who will nurse this (infant)? Then We brought you back to your mother (on the pretext of nursing) so that she might cool her eyes and might not feel aggrieved as well. And you killed a man (a disbeliever of Pharaoh’s people). Then We delivered you from (that) agony (too), and tested and assessed you through many trials. Then you stayed amongst the people of Madyan for many years. Musa (Moses)! Then you came (here) at the time fixed (by Allah. He was then exactly forty years old).

(طهٰ، 20 : 40)